|
|
|
|
| صفحہ اول | تعارف | تصانیف | تحفۃ المجالس | کرشمہ قدرت | اہم اطلاع | |
|
|
||||||
|
|
حضور قبلہ عالم سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ کی شہرت سے خائف ہوکر حکومت پاکستان نے جو راستہ اختیار کیا۔ اس کی منزل تباہی و بربادی کے قریب نظر آنے لگی۔ کیوں کہ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا حکم ہے کہ میرے ولی کو ستانے والا میری سزا سے نہیں بچ سکتا جس کا ایک تجربہ حکومت پاکستان دیکھ چکی ہے جناب نواز گورنمنٹ نے قبلہ عالم کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے آپ پر مختلف قسم کے جھوٹے مقدمات کے علاوہ دیگر حکومتی ذرائع کی مدد سے بہت زیادہ تنگ کردیا ان مختلف ہربوں کے علاوہ حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالیٰ اور آپ کے معتقدین کو عاشقین رسول ہونے کے باوجود توہین رسالت کے مقدمات میں مختلف شہروں سے پھنسا دیا گیا اور سالوں جیلوں کی مصیبت برداشت کرنے کے بعد عدم ثبوت کی بنا پر رہا کیا گیا مگر جھوٹے مقدمات میں پھنسانے والوں کے خلاف کوئی بھی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ان مقدمات میں سرفہرست راولپنڈی‘ گوجرہ‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ رنگ پور‘ قصور‘ کوٹری‘ ٹنڈو آدم ‘ حیدرآباد‘ عمر کوٹ وغیرہ شامل ہیں جب نواز حکومت نے زیادتیوں کی انتہا کردی تو 22فروری 1999کو قومی اخبار ‘ روزنامہ جرات‘ پرچم‘ پبلک اور دیگر ذرائع سے حکومت نوازسریف کو تنبیہ کی گئی کہ ہمارے ساتھ زیادتیاں بند کی جائیں ورنہ تمہاری حکومت بغیر کسی واویلا کے ختم کردی جائے گی لیکن اس کو اس قدر فرعونیت کا نشہ چڑھا ہوا تھا کہ اس نے اس نوٹس کا کوئی اثر نہیں لیا۔ جو حشر اس کا ہوا اور ہورہا ہے صرف پاکستان ہی نہیں پوری دنیا دیکھ رہی ہے 12اکتوبر 1999کو اللہ تعالیٰ نے ملک پاکستان کا پرویز مشرف کو صدر بنایا جس پر فوری طور پر اس کو تمام حالات سے آگاہ کیا گیا اور درخواست حصول انصاف کے لیے TOS No.Hyd 90658166 مورخہ22-01-2001 روانہ کی گئی اس کی کاپیاں دیگر اتھارٹی کو بھی ارسال کی گئیں۔ جس کوکوئی اہمیت نہیں دی گئی ہم کورٹ میں انصاف کے لیے دھکے کھاتے رہے اس دوران حضور قبلہ عالم سرکار گوہر شاہی مدظلہ العالی نے پرویز مشرف حکومت کو بھی وارننگ لیٹر جاری کردیا کہ ہم ہائی کورٹ سے رجوع کررہے ہیں اگر وہاں سے بھی انصاف نہ ملا تو پھر سپریم کورٹ میں جائیں گے اگر وہاں سے بھی انصاف نہ ملا تو سربراہ مملکت سے رجوع کیا جائے گا اگر وہاں سے بھی سنوائی نہ ہوئی تو پھر ہمارا کورٹ فیصلہ کرے گا۔ لہٰذا سپریم کورٹ تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی بغیر شنوائی کے ڈکٹیشن شدہ فیصلہ سنوادیا گیا حضور قبلہ عالم حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالیٰ کے حکم کے مطابق پرویز مشرف حکومت کو وارننگ لیٹر بمعہ تمام کوائف مورخہ OCS-91022LHR- 14-03-2005 روانہ کیا جوOCSریکارڈ کے مطابق دوسرے دن پریذیڈنٹ ہاﺅس میں موصول ہوا ایسا لگتا ہے صدر پاکستان بھی نوازشریف حکومت کی طرح اپنے مشیروں کی طفیل تسلیوں اور اپنی شان و شوکت کے نشے میں محصور ہوکرانصاف فراہم کرنے کی بجائے ظلم کی رات کے سویرے کو دعوت دینے میں مصروف عمل ہیں جس پر ہم عالم انسانیت کو خوش خبری دیتے ہیں کہ اگر پرویز مشرف نے اللہ تعالیٰ کے محبوب ولی کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ نہ کیا اور انصاف پر مبنی حقیقت کو آشکارنہ کیا تو اللہ تعالیٰ کے کورٹ کا فیصلہ بہت جلد سننے اور دیکھنے میں آجائے گا۔ حضور قبلہ عالم کو مختلف طریقوں سے تنگ کرنے اور آپ کی شہرت کی چند مثالیں مختصراً درج ذیل ہیں۔
تصنیف روحانی سفر: یہ کتاب حضرت صاحب نے اپنے دوران سلوک واقعات کو قلم بند کیا تاکہ اس راہ میں چلنے والوں کو آگاہی حاصل ہوجائے کہ شیطان جو انسان کا ازلی دشمن ہے اس راہ میں چلنے والوں کے لیے کیا کیا مشکلات پیدا کرتا ہے۔ طالبین حق اس سے استفادہ حاصل کریں۔ لیکن بعض سازشی علماء سوء نے روحانی سفر کی عبارتوں میں خیانت کرکے خواب کے واقعات کو ظاہری طور پر پیش کرکے زندیق اور واجب القتل کے فتوے صادر کیے اور غلط زباں استعمال کرکے عوام الناس کو گمراہ کرنے کی مکروہ کوشش کی اس پر بھی حضرت نے پر امن راستہ اختیار کیا اور ان کی ہٹ دھرمی ختم کرنے کے لیے ان میں سے چند علماء سو کے خلاف کراچی میں مقدمات قائم کیے۔ ان مقدمات کو جان بوجھ کر التواء میں رکھا گیا ہمارے وکیل کے احتجاج پر کہ مقدمے کی باقاعدہ شنوائی کی جائے فاضل جج نے ایک مقدمہ داخل دفتر کردیا جس میں ان علماء کو عدالت میں طلب کیا جانا تھا ہمارے وکیل نے اس مقدمے کو فاضل عدالت میں اٹھایا مگر کافی کوششوں کے باوجود ہمارے مقدمات کو خارج کردیا گیا اور حضرت صاحب کی تعلیمات کو غلط استعمال کرنے اور حضرت صاحب کی شہرت کو بد نام کرنے والے علماء سو کی حکومت نے مکمل پشت پناہی کی۔
نبوت کے دعویٰ کے الزامات: کچھ نام نہاد انتہا پسند تنظیموں اور ان کے علما نے بلا تحقیق حضرت پر نبوت اور مسیح موعود کے دعوے کا مبینہ الزام لگایا جسے عام جلسے جلوس ممبر رسول پر سادہ مسلمانوں کو حضرت کے قتل کے لیے اکسایا لاکھوں روپے سر کی قیمت رکھی گئی ملک کے اخبارات میں ان کی خبروں کو نمایا جگہ دی گئی لیکن ہر بات سمجھ میں نہ آئی کہ کیا حکومت کے علاوہ کسی شخص کے سر کی قیمت کوئی فرد لگانے کا مزاج ہے اگر نہیں تو ان کے خلاف حکومت تاحال کوئی کاروائی کیوں عمل میں نہیں لائی؟ جنہوں نے حضرت کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ جھوٹا مواد شائع کیا اور غلیظ زبان بھی استعمال کی۔
مرکزی آستانہ پر چھاپہ: سال 1991 میں حضرت کے آستانے و رہائش گاہ المرکز روحانی خدا کی بستی کوٹری میں رینجرز نے کس کی ایما پر چھاپہ مارا گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی آستانے پر موجود خادمین پر تشدد کیا گیا انہیں ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی گئیں اور پریشان کیا گیا 2001 میں اسی طرح کا چھاپہ دوبارہ ایس پی کوٹری مجسٹریٹ کوٹری کی قیادت میں مارا گیا جس میں آستانے اور حضرت کے گھر کے تقدس کو پامال کیا گیا اور تمام قیمتی اشیاء زبردستی اٹھا کر پولیس والے لے گئے اور آستانے پر موجود تمام خادمین کو تھانے لے جاکر تشدد کا نشانا بنایا اور جھوٹے مقدمے میں ملوث کردیا اور آج تک وہ لاکھوں کا سامان واپس نہیں ہوسکا اور عدم ثبوت کی وجہ سے کئی سالوں کے بعد وہ مقدمہ خارج ہوا جو کہ حکومت کا مظالم ڈھانے کا جارحانہ ثبوت ہے۔ مگر اپنے اہلکاروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔
قبضے کا منصوبہ: حضرت کی اپنی زر خرید زمین جس کے مکمل کاغذات حضرت کے پاس موجود تھے کس کی ایما پر بے دخلی کا مقدمہ درج کرایا گیا اور بعد میں زمین پر قبضہ کرنے کے لیے کرائے کے غنڈوں کے ذریعے آستانہ اور مسجد پر فائرنگ کی گئی اس وقت کی پولیس نے کھلے عام نہ صرف مجرموں کا ساتھ دیا بلکہ خادموں کو زدو کوب کیا آخر کیوں؟
پہلا جھوٹا قتل کیس: آستانہ پر آمنہ خاتون نامی 60 سالہ ضعیف خاتون کی طبعی موت کو ڈاکٹروں نے سازشی عناصر کے ساتھ مل کر قتل کا رنگ دیا گردن کی ہڈی توڑنے کے ساتھ ساتھ زنا کا الزام لگایا۔ لیکن لیبارٹری کی رپورٹ میں الزام جھوٹا ثابت ہوا۔ شروع میں پولیس اور بعد میں کرائم برانچ نے ڈاکٹرز کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ جن لوگوں کے کہنے پر ڈاکٹر جھوٹی رپورٹ تیار کی ان کے خلاف اس مقتولہ کے بیٹے نے مقدمہ درج کرادیا کہ میری ماں کی طبعی موت کو قتل کا رنگ دینے کے الزام میں انہیں سزادی جائے لیکن حکومت نے ان لوگوں کی مکمل پشت پناہی کی اور مقدمہ خارج ہوگیا۔ حضرت کا نام ایف آئی آر سے مکمل باعزت طور پر خارج کردیا گیا بلکہ تفتیشی افسر کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ میں نے آمنہ خاتون کے جسم پرجو نشان دیکھے وہ مرنے کے بعد کے لگائے گئے تھے سوال یہ ہے کہ ا س گھناﺅنی سازش میں حکومت نے ان سازشی عناصر کی سرکوبی کیوں نہیں کی۔ جنہوں نے حضرت کو ناحق جھوٹے قتل کیس میں ملوث کردیا تھا۔
دوسرا قتل کیس: ابھی آمنہ خاتون کے جھوٹے قتل کیس میں حضرت کے بے گناہ ہونے کا ثبوت کرائم برانچ نے فراہم ہی کیا تھا۔ کہ سازشی عناصر نے سازش کے تحت حضرت اور ان کے گارڈ راشد ،ندیم اور طارق کو عبدالمجید خاصخیلی کے قتل میں مورد الزام ٹھہرادیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ریشم بازار حیدرآباد میں مجید خاصخیلی کا بھرے بازار میں مغرب سے پہلے کسی نہ معلوم شخص نے قتل کردیا۔عینی شاہدین کے مطابق قاتل 18,19 سالہ نوجوان تھا جس کے لمبے بال تھے کلین شیو اور اجنبی تھا۔ فریادی اقبال میمن نے ایف آئی آر میں حضرت اور آپ کے ساتھیوں کو نامزد کرتے ہوئے دشمنی کی وجہ چار سالہ پرانا زمین کا تنازعہ بتایا جب کہ جس زمین کا تذکرہ انہوں نے کیا۔ اس کا فیصلہ ایک سال قبل سول جج کوٹری کی عدالت نے حضرت کے اصل کاغذات دکھانے پر حضرت کے حق میں فیصلہ کردیا تھا۔ اس کے بعد واقعے والے روز تک متوفی عبدالمجید خاصخیلی اور فریادی اقبال میمن کے حضرت سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہ تھا اور نہ ہی کسی موقع پر تلخ کلامی ہوئی۔ فریادی اقبال میمن نے خود کو اور قاتلوں کو چھپانے کے لیے پولیس کا رخ جان بوجھ کر دوسری طرف موڑنے کی کوشش کی۔ اور ایف آئی آر میں غلط بیانی سے کام لیا۔ علاقائی پولیس نے حسب معمول بغیر تحقیق کے حضرت اور گارڈز کے خلاف مقدمہ درج کردیا جب کہ ندیم ‘راشد حضرت کے ساتھ واقعہ والے روز بفرزون کراچی میں ایک تقریب عید ملن پارٹی میں شریک تھے۔ جبکہ طارق میمن فیصل آباد کے سرکاری ہسپتال میں زیر علاج تھا۔ حضرت کے سب گارڈ باریش ہیں اور پورا بازار ان کی شکل سے واقف ہے کیوں کہ وہ عرصہ دراز سے اسی بازار میں پارٹ ٹائم صرافہ کا کام کرتے ہیں۔ فریادی اقبال میمن کو یہ پتا چلا کہ طارق میمن واقعے کے روز حیدرآباد سے باہر تھا۔ تو اس نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ میں نے طلعت کا نام لکھوایا تھا۔ جس پر پولیس نے طارق لکھ دیا۔ جب فریادی نے نام تبدیل کرانے کے لیے سیاسی اثر و رسوخ استعمال کیا۔ تو ایس ایچ او سٹی نے اس سے کہا تم نے تو طارق کا نام لکھوایا تھا اور رات میں اس کے بھائیوں کو بھی اٹھا لایا تھا۔ اس وقت اعتراض نہیں ہوا اور اب کیسے اعتراض ہوگیا جب ابتدائی تفتیشی ٹیم نے اس کی من مانی کاروائی کرنے سے انکار کیا تو اس نے ڈی آئی جی حیدرآباد سے سیاسی اثر و رسوخ کی بنا پر ابتدائی تفتیش تبدیل کرواکر ڈی ایس پی حیدرآباد حیدر بخش کھوسہ کومنتقل کرالی۔ جو ان کے اثر و رسوخ میں تھا۔ اس نے حضرت کے صاحبزادے کو ملوث کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت کے خلاف 13/D کا مقدمہ درج کردیا جو کہ خود پولیس نے تفتیش کرکے حضرت اور صاحبزادے کو باعزت بری کردیا۔ پولیس اصل حقائق جاننے کے باوجود پتا نہیں کس کی ایما پر اصل لوگوں کو بے نقاب کرنے سے گریز کرتی رہی۔
رہائش گاہ پر بم سے حملہ: ستم یہیں پر ختم نہیں ہوتا 30-04-1999 کی صبح حسب معمول حضرت اپنی ڈیوٹی (دم درود دعوت تبلیغ) پر تھے کئی افراد ملاقات کے لیے موجود تھے۔ تقریباً 12 بجے باہر سے حضرت صاحب پر ہینڈ گرنیڈ پھینکا جو قریب گرا معتقدین نے اس شخص کو بھاگ کر پکڑ لیا اور دوسرا بم بھی برآمد کرلیا اس کا ایک ساتھی بھاگنے میں کامیاب ہوگیا کوٹری تھانے میں ایف آئی آر درج ہوئی ملزم حراست میں لے لیا گیا مگر جن لوگوں کے خلاف ایف آئی آر میں شک ظاہر کیا گیا ان لوگوں کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی ملٹری انٹیلیجینس اور دیگر ایجنسیوں نے اس کو ایک خود ساختہ ڈرامہ کا روپ دے دیا۔ مگر اسی شام ملزم نے ایس ایس پی دادو اور دیگر انویسٹی گیشن کے سامنے اقبال جرم قبول کرلیا۔ جو کہ ابھی تک مقدمہ الجھاؤ کا شکار ہے۔
تحقیقی مطالبات پر لاپرواہی: اصل مسئلہ چاند اور حجر اسود پر تصویر کا ہے جو فرقہ تصویر کو حرام سمجھتا ہے وہ کسی نہ کسی طریقہ سے اس مسئلہ کو دبانا چاہتا ہے ان ہی نشانیوں کی وجہ سے ایک خاص طبقہ حضرت کا دشمن ہوگیا اگر یہ تصویر حضرت نے بنائی ہو تو اعتراض بجاہے۔ مگر یہ تو اللہ کی طرف سے کھلی نشانیاں ہیں ہم نے بار بار حکومت سے اپنی تحریر و تقاریر میں مطالبہ کیا ہے کہ حجر اسود مسلمانوں کے لیے ایک نازک مسئلہ ہے کسی وقت بھی ماننے اور نہ ماننے والوں کے درمیان فساد چھڑ سکتا ہے بہتر ہے حکومت کسی فتنہ اٹھنے سے پہلے ہی اس کی تحقیق کرائے مگر حکومت پتہ نہیں کس خوف میں متبلا ہوکر ایسا کرنے سے گریز کرتی آرہی ہے جب کہ کروڑوں لوگ مکہ سے چھپے ہوئےتغرے کے ذریعے تحقیق کرچکے ہیں اب یہ کہنا کہ حجر اسود میں تصویر نہیں ایک نادانی ہے کیونکہ تصویر اتنی واضح ہے کہ ہر آنکھ بھی اسے دیکھ سکتی ہے۔ اب تحقیق یہ کرنی ہے کہ تصویر کس کی ہے اس سلسلہ میں مہران یونیورسٹی سندھ کمپیوٹر ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین سپارکو کراچی اور ڈاکٹر اے کیو لیبارٹری کہوٹہ سے پہلے تحریری درخواست کرچکے ہیں اس کے علاوہ ہم صدر پاکستان ‘وزیراعظم پاکستان ‘چیف آف آرمی اسٹاف گورنر سندھ کو بھی تحریری طور پر اور اخبارات کے ذریعہ تحقیق کی اپیل کرچکے ہیں لیکن تاحال کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوسکی اور نہ ہی کوئی جواب موصول ہوا ہے اگر تصویر ثابت ہوجائے تو اسم ذات اللہ کے توسط سے اس پاک روحانی مشن کے فروغ میں ہمارا ساتھ دیا جائے ورنہ حکومت کسی بھی قسم کی بندش یا سزا کی مجاز ہے دریں اثناء ہم مجبوراً دوسرے ممالک سے تحقیقات کرنے کے مجاز ہوں گے۔
سچ پر مقدمہ کی سازش: یوں تو حضرت اور آپ کے ساتھیوں پر پورے پاکستان میں توہین رسالت ‘توہین قرآن جھوٹے مقدمات مختلف شہروں میں حکومت پاکستان نے درج کروائے مگر زیر بحث جھوٹا مقدمہ جس کے لیے انصاف کی اپیل صدر پاکستان سے کی گئی درج ذیل احوال حقیقت بیان کرتا ہوں۔ کہ حضرت کے اس بیان پر کہ حضور پاکﷺ سے بالمشافہ ملاقات ہوتی ہے ایک نام نہاد مولوی احمد میاں حمادی جس کا تعلق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم سے ہے۔ نے ایک تحریری درخواست ڈپٹی کمشنر دادو کے نام توہین رسالت توہین قرآن کا مقدمہ درج کرنے کے لیے دی اس کے جواب میں حضرت نے تفتیشی افسر کو اپنا بیان ریکارڈ کرادیا جس پر مقدمہ درج نہ ہوسکا مگر اسی مولوی نے حکومتی اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سانگھڑ کے ذریعہ ٹنڈو آدم تھانہ میں مقدمہ نمبر108/99دفعہ295 ABC (توہین رسالت توہین قرآن اور مذہبی جذبات مجروح) درج کرادیا۔ اطلاع ملتے ہی تفتیشی افسر کو تمام حقائق سے آگاہ کیا گیا اور تحریری طور پر تمام ثبوت فراہم کیے گئے۔ جس کی بناء پر مقدمہ خارج ہونا تھا۔ مگر تفتیشی افسر نے دوسرے روز جواب دے دیا کہ مجھے اوپر سے حکم ہے کہ کیس ہر حالت میں چالان کیا جائے جس کی تحریری اطلاع حکام بالا کو دی گئی کمشنر میرپور خاص کو پولیس کی بدنیتی سے آگاہ کیا جس پر اس نے فوری طور پر تحریری آرڈر ایس پی سانگھڑ کو کیا کہ غیر جانبداری انکوائری کی جائے جب ہائی کورٹ میں اسی کمشنر کو کال کیا گیا تو اس نے اپنے ہی کئے ہوئے آرڈر سے صاف انکار کردیا کہ میرے دفتر میں گوہر شاہی کے کسی بندے نے رابطہ نہیں کیا ہائی کورٹ نے بجائے اس کے کمشنر کے جھوٹ اور بدنیتی ظاہر ہونے پر ہائی کورٹ نے کمشنر کو سزا دینے کی بجائے بالکل نظر انداز کردیا۔ ہائی کورٹ میں ایف آئی آر کو چیلنج کیا گیا مگر حکومت کے خوشامدی ججوں نے دہشت گردی کورٹ کے فیصلے تک اس درخواست کو التواء میں ڈال دیا۔ آخر دہشت گردی کورٹ نے حکومتی پالیسی کے تحت حضرت کی غیر حاضری میں آپ کو سزا سنائی جس کی اپیل ہائی کورٹ حیدرآباد میں کی گئی جس کو سالوں داخل دفتر رکھا گیا اسی دوران حضرت صاحب نے حکومت پاکستان کو مقدمات کے لیے وضاحت نامہ لکھا جو کہ درج ذیل ہے۔
دفعہ ....نمبر1کا جواب: میری سالگرہ کے موقع پر کچھ ہندؤں نے ایک اسٹیکر شائع کیا تھا۔ جس پر چاند سورج اور حجر اسود پر میری تصاویر دکھائی گئی تھیں۔ اس اسٹیکر پر لکھا تھا : لاالہ الا اللہ‘ ریاض احمد گوہر شاہی‘ یعنی اس کے آگے رسول اللہ‘ نبی اللہ یا کچھ بھی نہیں لکھا ہوا تھا۔ یہ ان کی عقیدت کا اظہار تھا کہ ہم اللہ کے بعد ریاض احمد گوہر شاہی کو اپنا اوتار تسلیم کرتے ہیں ‘ جس کا وہ لندن کے ہفت روزہ اخبار(دیس پردیس) 29 جولائی 1998کے شمارے میں اعلان بھی کرچکے تھے ان کے عقیدے کے مطابق کوئی حرج نہیں تھا۔ لیکن میں نے اس کی تائید نہیں کی تھی‘ اور مسلمانوں میں غلط فہمی( کے اندیشہ کے باعث) سختی سے منع کیا تھا کہ آئندہ جو بھی اسٹیکر چھاپنا ہو‘ مرکزی کمیٹی کی منظوری سے چھاپا جائے۔ اس وقت بھی یہ لوگ اس اسٹیکر کو لے کر صدر رفیق تارڑ کے پاس پہنچے تھے اور صدر صاحب نے اپنے محکمہ کے علماء سے اس اسٹیکر کی وضاحت چاہی تھی‘ علماء نے صدر کو لکھ کر بھیجا تھا کہ لاالہ.... کے بعد صرف گوہر شاہی کا نام جو ایک کو نے پر ہے کلمہ کی دلالت نہیں کرتا۔
تصاویر ....دفعہ نمبر2کا جواب: یہ تصویریں حجر اسود‘ چاند‘ سورج کے متعلق حقیقت میں با ثبوت ہیں‘ جو کہ کتاب دین الٰہی کے علاوہ انٹرنیٹ پر بھی موجود ہیں۔ چاہیے تھا کہ جج صاحبان ان تصویروں کی تصدیق کرتے! اور عدم ثبوت پر‘ ان کو سزا دینے کا حق تھا۔ لیکن ہوم سیکریٹری سندھ کے دباؤ کی وجہ سے نا انصافی کی گئی‘ ہوسکتا ہے کہ دوسرے حکمران شامل ہوں‘ لیکن ہمیں صرف ہوم سیکریٹری کی سازش کا پکا یقین اور ثبوت ہے۔ دو سال پہلے بھی ہوم سیکریٹری نے ڈپٹی کمشنروں کو ایک لیٹر جاری کیا تھا کہ بڑھتی ہوئی مقبولیت کے تحت گوہر شاہی اور اس کی تنظیم پر سخت نظر رکھی جائے۔ (اس لیٹر کی نقل ہمارے پاس موجود ہے) میں نے کئی بار حکومت کو بھی ان تصویروں کے متعلق آگاہ کیا ‘کہ وہ تحقیق کرے‘ لیکن حکومت جانتے ہوئے بھی خاموش ہے جس کی وجہ سے یہ فتنہ کھڑا ہورہا ہے۔ یہ تصویریں منجانب اللہ ہیں۔ ہر شخص کو چاہیے کہ ان کی تحقیق کرے پھر غور اور انصاف کرے اسی میں اس کے ایمان کی بہتری ہے۔
توہین رسالت.... دفعہ کا جواب: 7دسمبر1998کو آستانہ گوہر شاہی میں پریس کانفرنس میں مختلف اخباروں کے تقریباً 30صحافی موجود تھے‘ اور ملٹری انٹیلی جینس حیدرآباد کے نمائندے بھی شامل تھے اس کاروائی کی پوری رپورٹ انہوں نے نوٹ کی تھی۔ اگر کوئی توہین قرآن یا توہین رسالت کی بات ہوتی تو اس وقت کے اخباری رپورٹر کیسے خاموش رہتے؟ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ حضور پاکﷺ سے اکثر بالمشافہ ملاقات ہوتی رہتی ہے‘ اگر کوئی سچا طالب ہے تو آئے میں سات دن کے اندر حضور پاکﷺ سے ملاقات کرواسکتا ہوں‘ اور جو علم حضور پاکﷺ سے سیکھا ہے وہی لوگوں کو بتاتا ہوں ‘ دوسرے دن اخبارات میں بھی یہی بیان آئے تھے‘ جن کو تحفظ ختم نبوت والوں نے اپنی منطق سے توہین رسالت اور توہین قرآن کا رنگ دے دیا۔ لاالہ الا اللہ کے اسٹیکر کو وجہ بنا کر‘ کچھ ان ہی کے اخباروں اور مولانا حمادی نے مشہور کردیا کہ گوہر شاہی نے براہ راست نبوت کا اعلان کردیا ہے۔ جب کہ اس سے پہلے بھی کئی بار خبارات میں اس کی تردید اور وضاحت ہوچکی تھی۔ حمادی نے ایک درخواست ڈی سی دادو کو بھیجی کہ گوہر شاہی پر دفعہ295کے تحت مقدمہ درج کیا جائے ڈی سی نے وہ درخواست انکوائری کے لیے ایس پی کو بھیجی۔ انکوائری کے بعد ایس پی کوٹری نے فائل کردی۔(اس کا تحریری ثبوت ہمارے پاس موجود ہے) پھر وہی درخواست اپنے رسوخ کی بنیاد پر حمادی نے ڈی سی سانگھڑ کو دی اور ڈی سی سانگھڑ کے حکم پر ٹنڈو آدم کے تھانے نے جو کہ حمادی کے اثرو رسوخ کی وجہ سے چالان دہشت گردی کی عدالت میں پیش کردیا۔ اس ایف آئی آر کی نقل بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ یہ کیس ایک سال سے زیادہ دہشت گردی کی عدالت میں گھومتا رہا جبکہ اس عدالت نے ساتھ دن میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ جب دیکھا جاتا ہے کہ کوئی جج انصاف سے کام لے رہا ہے تو دوران تفتیش اس کی تبدیلی کروادی جاتی ہے‘ اس طرح یہ کیس کئی ججوں سے گزرتا ہوا عبدالغفور میمن تک پہنچا‘ جس کا انصاف بھی بغیر تحقیق اور ثبوت کے‘ یک طرفہ پالیسی پر مبنی تھا۔ اور اتنی لمبی سزا دیتے وقت اسے یہ بھی خیال نہ آیا کہ اس کا بھی کوئی حساب لینے والا موجود ہے! اب ہم ہائی کورٹ سے رجوع کررہے ہیں‘ اگر وہاں سے بھی انصاف نہ ملا تو پھر سپریم کورٹ میں جائیں گے‘ اگر وہاں سے بھی مایوسی ہوئی تو سربراہ مملکت سے رجوع کیا جائے گا۔ اگر وہاں سے بھی شنوائی نہ ہوئی! تو پھر ہمارا اپنا کورٹ فیصلہ کرے گا کہ پاکستان کو ظالموں کے پنجے سے آزاد کرایا جائے اور اس پاک گلشن سے چیلوں‘ کوﺅں اور کالی بھیڑوں کو نکال کر انصاف پسند روشن ضمیر مومنوں کے حوالے کیا جائے‘ اس کے لیے ہمیں کوئی بھی وسائل استعمال کرنا پڑے یا خون کی قربانی دینا پڑی توا س سے بھی دریغ نہیں کریں گے!
خوشخبری میں ان لوگوں کو حلفیہ یہ خوشخبری سناتا ہوں جو ناحق جیلوں میں بند ہیں یا وہ لوگ جو ناحق مقدموں کی وجہ سے مفرور ہوکر ڈاکو بن گئے یا جو سیاسی انتقام کی بنا پر ملک چھوڑنے پرمجبور ہوگئے....کہ عنقریب وقت آنے والا ہے کہ اس ملک پاکستان میں کسی درویش کی حکومت ہوگی بکری اور شیر ایک ہی جگہ پانی پیئیں گے۔ سکون ہوگا‘ امن ہوگا اور انصاف ہوگا اورہر کوئی خوش حال ہوگا۔ ذمہ دار کرسیوں پر خدا ترس اور درویش ہی بیٹھیں گے۔ اتنا میرے علم میں ہے کہ یہ انگریز قانون اور جیلیں ختم کردی جائیں گی۔ تاوان‘ قصاص اور جرمانے یا غلامی کے بعد تمام قیدی رہا کردیئے جائیں گے اور یا تو کوڑے مار کر فارغ ‘ یا ہاتھ کاٹ کر فارغ ‘ یا پھر سنگسار کردیئے جائیں گے۔ جیلوں کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ یہ سخت قانون امن کا باعث بنے گا۔ جس کے تحت ہائی کورٹ میں اپیل پڑی رہی اس اپیل کو حضرت کے عالم غیبت میں جانے کے بعد فوری طور پرکیس داخل دفتر کردیا گیا۔ صاحبزادے کی طرف سے اپیل دوبارہ ری اوپن کرنے کی درخواست دی گئی مگر بغیر سنے خارج کردی گئی سپریم کورٹ آف پاکستان میں انصاف کے حصول کی خاطر درخواست دی گئی کہ خدا کے لیے ہمیں سن تو لیں مگر جج صاحبان نے بھی حکومتی غلامی کا ثبوت دیتے ہوئے بغیر سنے درخواست مسترد کردی۔ جس کے بعد حضرت صاحب کی ہدایات کے مطابق جو کہ مندرجہ بالا لیٹر میں موجود ہیں آخر مرحلہ تک انصاف حاصل کرنے کا تقاضا پورا کرنے کے لیے صدر پاکستان کو درخواست دی گئی ہے جس کا ہر سرفروش اور ہر صاحب نظر اور صاحب دل کو بے چینی سے انتظار ہے کیونکہ اس کے بعد صدر پاکستان نے انصاف فراہم نہ کیا تو پھر اللہ کے محبوب ولی کا کورٹ فیصلہ سنائے گا جس کو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے ممالک نظارہ کریں گے کیونکہ پاکستان فرعونی قوانین کے لیے معرض وجود میں نہیں آیا تھا بلکہ اسلامی قوانین کو متعارف کروانے کے لیے آیا تھا یہاں کسی ایسے درویش کی حکومت قائم ہوگی جس کی ہاں اور نہ میں پوری دنیا کے فیصلے ہوا کریں گے۔ آخر میں حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ بہتر ہے کہ اللہ کے ولیوں سے ٹکر لینے کی بجائے ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کیا جائے اور زیادتیاں کرنے والے حکومت میں موجود کالی بھیڑوں کا محاسبہ کیا جائے۔ |
|
|
|
information4desk@gmail.com |
المرکز روحانی کوٹری شریف، ضلع جامشورو، سندھ پاکستان |